بھٹکل:24؍جنوری (ایس او نیوز)ملپے بندرگاہ سے 13ڈسمبر 2018کی رات کو گہرے سمندر میں مچھلیوں کے شکار کے دوران سورنا تربھوج بوٹ، ماہی گیروںسمیت لاپتہ ہوگئی تھی، بوٹ کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے، ایسے میں اُن کے پریشان گھروالوں کو تھوڑی بہت راحت دینے کے ارادے سے ضلع اُترکنڑا کے پانچ ماہی گیروں کے وارثین کو وزیراعلیٰ امدادی فنڈ سے ایک ایک لاکھ روپیوں کی چیک تقسیم کئے گئے ہیں۔
لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں میں بھٹکل تعلقہ کے ہریش شنیار موگیر اور رمیش شنیا موگیر کے گھر پہنچ کر بھٹکل تحصیلدار وی این باڈکر نے ان کے والدین کو ایک ایک لاکھ روپیوں کے چیک پیش کئے۔ اسی طرح خبر دی گئی ہے کہ ہوناور کے روی ناگپا ہری کنتر کے والد ناگپا منجپا ہری کنتر ، کمٹہ کے ستیش ایشور ہری کنتر اور لکشمن نارائن ہری کنتر کی بیویوں کو ایک ایک لاکھ روپیوں کے چیک منظور کئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ملپے سے مچھلیوں کا شکار کرنے نکلی اس بوٹ کو بحرہ عرب میں ، گوا، مہاراشٹرا اور کیرلا سمندر میں تلاش کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی ہے، مگر ابھی تک نہ بوٹ کا پتہ چل پایا ہے اور نہ ہی ماہی گیروں کی کوئی خبر مل سکی ہے۔ البتہ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ حال ہی میں ایک بوٹ نیوی سے ٹکرا گئی تھی، اور وہ یہی بوٹ ہوسکتی ہے ، مگر اس خبر کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ بوٹ پر جو سات ماہی گیر سوار تھے اُن میں پانچ کا تعلق اترکنڑا ضلع سے ہے جبکہ دو ماہی گیروں کا تعلق ضلع اُڈپی کے ملپے سے ہے ۔ ماہی گیروں کے خاندان والوں کے لئے فوری امداد کے طورپر وزیراعلیٰ امدادی فنڈ سے 5لاکھ روپئے منظور کئے گئے تھے اُسی مناسبت سے ضلع کے پانچ ماہی گیروں کے خاندان والوں کو فی کس ایک ایک لاکھ روپئے تقسیم کئے گئے ہیں۔